آنکھیں بند کریں اور جو ہم کہتے ہیں وہ کریں۔۔!! آرمی چیف کا دورہِ سعودی عرب، سعودی شاہی خاندان اب پاکستان سے کیا چاہتا ہے؟ عمران ریاض خان کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) اینکر پرسن عمران ریاض خان کا کہنا ہے کہ یواے ای کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد صورتحال بہت تبدیل ہوگئی ہے۔ یواے ای کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد پاکستانیوں میں انٹی عرب جذبات پائے جاتے ہیں جو کہ قدرتی ہے کیونکہ سعودی عرب اور دیگر عرب

ممالک کی بہت ہارڈ لائن تھی۔ تفصیلات کے مطابق اینکر عمران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کا بیان شاہ محمودقریشی نے دیا، اس قسم کا بیان پاکستان کی طرف سے سعودی عرب سے متعلق کبھی نہیں آیا۔ آرمی چیف کا دورہ ایک تو اسی تناظر میں تھا ، دوسرا یہ دورہ دفاع نوعیت کا تھا۔شاہ محمودقریشی کے بیان پر پاکستان میں بطور سفیر خدمات سرانجام دینے والے سابق سعودی سفیرعلی عواد اسیری نے ایک آرٹیکل لکھا اور کہا کہ پاکستان سعودی عرب پر الزام لگاکر اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کررہا ہے، وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کا مقدمہ بہت اچھا لڑا لیکن ددفتر خارجہ نے یہ مقدمہ ٹھیک طریقے سے نہیں لڑا۔ یہ سفیر علی عواد اسیری سعودی حکمرانوں کے بہت قریب ہیں اور انکا موقف سعودی عرب کا ہی موقف ہے۔انکی بات درست ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ شاہ محمودقریشی ایک سال سے اوآئی سی کا اجلاس بلانے کی کوشش کررہے ہیں جو بلانے نہیں دیا جارہا ہے۔سعودی عرب پاکستان سے یہ توقع کرتا ہے کہ سعودی عرب جو بھی کرے پاکستان آنکھیں بند کرکے اسے فالو کرے۔ سعودی عرب کو پاکستان نے ایک ارب ڈالر دیدئیے، اب سعودی عرب مزید ایک ارب ڈالر مانگ رہا ہے، یہ سعودی عرب کیلئے انتہائی معمولی رقم ہے لیکن پاکستان کیلئے لائف لائن ہے۔اینکر عمران خان نے انکشاف کیا کہ پاکستان پر ایک نیا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان تین گروپوں میں تقسیم تھی لیکن افغانستان میں یہ گروپ دوبارہ منظم ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے لوگوں کو جب پاکستان آرمی سے شکست ہوئی تو انکے لوگ بھاگ کر افغانستان چلے گئے۔ وہاں یہ تین گروپوں میں تقسیم ہوگئے، جماعت الاحرار، حزب الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان لیکن اب ان دونوں گروپوں نے تحریک طالبان کے نورولی کے ہاتھ میں بیعت کرلی ہے۔اب خدشہ یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں کہیں پہلے کی طرح دہشتگردی نہ شروع ہوجائے ۔ ان سب دھڑوں کو اب اکٹھا کروایا گیا ہے تاکہ یہ پاکستان میں اپنی کاروائیاں شروع کریں اور پاکستان کے خلاف متحرک کاروائیاں کریں۔ یہ اس وقت کیا جارہا ہے جب پاکستان چین، ایران، ترکی کے ساتھ نئے تعلقات بنارہا ہے، روس کے ساتھ نئے تعلقات کا آغاز ہوگیا ہے۔افغانستان میں تحریک طالبان کو افغان حکومت بھی سپورٹ کررہی ہے اور کچھ غیر ملکی ایجنسیاں بھی۔افغان حکومت اور غیر ملکیوں ایجنسیوں نے ہی انہیں اکٹھا کیا ہے۔