اہم سیاسی شخصیت نے بڑی غلطی تسلیم کر لی ، شرمندگی کا اظہارکرتے ہوئے سر عام معافی مانگ لی

کراچی(ویب ڈیسک) پیپلز پارٹی رہنما عبدالقادر پٹیل نے قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر پر غلطی تسلیم کر لی کہتے ہیں کہ وفاقی وزرا نے غلط زبان استعمال کی تو جواب دینا پڑا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل جمعہ کے روز قومی اسمبلی اجلاس کے بعد کراچی پہنچ گئے، میڈیا سے گفتگومیں

انھوں نے کہا کہ جوکچھ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ہوا نہیں ہونا چاہیے تھا، وفاقی وزرا نے غیرشائستگی اور بدتمیزی کا آغاز کیا اور ہماری قیادت سے متعلق نازیبا گفتگو ایوان میں کی ۔یاد رہے کہ رہنما پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں عبد القادر پٹیل نے ایک پی ٹی آئی رہنما کے بارے میں اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کئے ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس کی اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا ہے جس کے بعد ٹی وی اینکرز، تجزیہ نگاروں اور سیاسی رہنماوں کی جانب سے عبدالقادر کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اسی پر بات کرتے ہوئے اپنی یوٹیوب ویڈیو میں صحافی صدیق جان نے انکشاف کیا ہے کہ دانش نامی اینکر نے عبد القادر کی یہ ویڈیو مختلف واٹس ایپ گروپس میں شیئر کی ہے اور کہا ہے کہ سب لوگ اسے ضرور دیکھیں۔مزید بات کرتے ہوئے صدیق جان کا کہنا تھا کہ یہاں اگر کوئی پی ٹی آئی رہنما ایسی کوئی بات کرتا تو میڈیاپر کہرام برپا ہو جانا تھا،لیکن اب اس واقع کا ذکر کہیں بھی نہیں ہے۔دانش نامی اینکر چونکہ پی ٹی آئی مخالف ہیں،اس لئے ان کی جانب سے یہ ویڈیو وائرل کی گئی ہے جس میں قومی اسمبلی میں رہنما پیپلز پارٹی عبدالقادر نے اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کی اور اس پر ان کے ساتھ ارکان کی جانب سے ڈیسک بجا کر تعریف بھی کی گئی۔ ویڈیو انتہائی نا مناسب تھی جس کی وجہ سے اس پر زیادہ بات نہیں کی گئی جبکہ اجلاس کے دوران سپیکر نے بھی عبدالقادر کو ایسے الفاظ استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔لیکن اجلاس کے بعد گزشتہ شب یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی جس کے بعد عبدالقادر کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں اس طرح کے الفاظ کا استعمال کر کے اسمبلی کی توہین کی ہے۔اسی پر انکشاف کرتے ہوئے صحافی صدیق جان کا کہنا ہے کہ اویس نامی اینکر نے اجلاس کی یہ ویڈیو مختلف واٹس ایپ گروپس میں شیئر کی ہے اور درخواست کی ہے کہ سب لوگ اس کو دیکھیں.