ترک صدر کی تعریف کرنا عمران خان کو مہنگا پڑ گیا ، بڑی مصیبت میں‌پھنس گئے ،جانئیے

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان کے پاکستان آنے سے ہمیں خوشی ہوئی ہے کیونکہ ترکی ہی وہ ملک ہے جس نے 600 سال ہندوستان پر حکومت کی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو ایک مرتبہ پھر سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ

تنقید سوشل میڈیا پر ایک خاص طبقہ کر رہا ہے، ترک صدر رجب طیب اردگان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان رجب طیب اردگان کے پاکستان آنے کی بہت خوشی ہو رہی ہے، پاکستان اور ترکی کا صدیوں پرانا رشتہ ہے وہ بھی اس لیے کیونکہ ترکوں نے 600 سال ہندوستان پر حکومت کر رکھی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کو ایک خاص طبقے کی جانب سسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ عمران خان شاید بھول گئے ہیں، لیکن اگر تاریخ کے اوراق کھول کر دیکھا جائے تو پندوستان پر 1200 سال مسلمانوں نے حکومت کر رکھی ہے۔ وزیر اعظم اور ترک صدر کی مشترکہ پریس کانفرنس آپ بھی دیکھیں:علاوہ ازیں صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 3 سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے پر بہت خوش ہوں۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پاکستان کو اپنا گھر سمجھتا ہوں ، ہرموقعے پر پاکستان ک ساتھ دیں گے۔ ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ 13معاہدے پاک ترک تعلقات کا مظہر ہیں۔2023ء تک تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش ہے، کشمیر ایشو کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل کی حمایت کرتے ہیں۔واضح رہے پاکستان اور ترکی کے درمیان سیاحت، ثقافت، ریلوے، پوسٹل سروسز، اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے ، ٹرانسپورٹ، نفراسٹرکچر، خوراک کے شعبوں میں ایم اویوز پر دستخط کیے گئے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ترک صدر کا پاکستان آمد پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پاکستانی عوام ترک صدر کو بہت پسند کرتی ہے۔ پاکستانی عوام نے ترک صدر کی پارلیمنٹ میں تقریر کو بہت پسند کیا، ترک صدر اگر پاکستان میں الیکشن لڑیں تو کلین سویپ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارتی تعلقات میں نیا دور شرورع ہورہا ہے۔پاک ترک ایم اویوز پر دستخط نئے دور کا آغاز ہے۔ ان معاہدوں کا دونوں ممالک کو بہت فائدہ ہوگا۔ ترکی کی فلمی صنعت تیزی سے ترقی کررہی ہے۔ اسلامو فوبیا کیخلاف ترک فلم انڈسٹری سے مستفید ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے ایف اے ٹی ایف میں ہماری سپورٹ کی۔ کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے تو ترکی ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ اسلاموفوبیا کے خلاف دونوں ممالک نے مشترکہ تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔بین الاقوامی ایشوز پر پاکستان اور ترکی کا یکساں مئوقف ہوتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے، 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو بھارت نے محصور کررکھا ہے۔بھارت نے کشمیری قیادت اور نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر ایشو کا حل نکالا جانا چاہیے۔ بھارت نے آئین کو پامال کرکے 6 ماہ سے کشمیریوں کو قید کررکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کیخلاف آواز اٹھانے پر ترک صدر کا مشکور ہوں۔