ق لیگ اور اختر مینگل کے ساتھ کیا طے پایا ؟ جہانگیر ترین کے حیران کن انکشاف ،جانئیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے سینئررہنما جہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہ نئی کمیٹیاں بنانا وزیراعظم کی صوابدید ہے جو ذمہ داریاں دیں گے میں اس کیلئے حاضر ہوں، کمیٹی سے نکالے جانے کا مجھے کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی کمیٹی میں جانے کی مجھے کوئی خواہش ہے،اب جن کے ذمے یہ کام

لگایا گیا ہے وہی کریں،میرے ہوتے ہوئے ہی (ق) لیگ کے ساتھ معاملات 100فیصد حل ہوچکے تھے، بی این پی مینگل کے ساتھ بھی ایسے معاملات طے ہوئے جو تاریخ میں پہلے نہیں ہوئے تھے۔نجی ٹی وی کے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ گنے کی قیمت بڑھنے اور سیل ٹیکس لگنے کی وجہ سے چینی مہنگی ہوئی،ہم نے گنے کے کاشتکاروں کو بہتر قیمت دی ہے،ا سکا فائدہ کاشتکاروں کو ہورہا ہے،ہم نے پہلا کام کیا ہے کہ سیل ٹیکس کا استثنیٰ ختم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس وقت چینی کی قیمت 53روپے کلو تھی اس وقت گنے کی قیمت کم تھی،گنے کی قیمت مافیا کنٹرول نہ کرسکا تو چینی کی قیمت خاک کنٹرول کرے گا۔انہوں نے کہا کہ نئی کمیٹییاں بنانا وزیراعظم کی صوابدید ہے جو ذمہ داریاں دیں گے میں اس کیلئے حاضر ہوں، کمیٹی سے نکالے جانے کا مجھے کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی کمیٹی میں جانے کی مجھے کوئی خواہش ہے،اب جن کے ذمے یہ کام لگایا گیا ہے وہی کریں،میرے ہوتے ہوئے ہی (ق) لیگ کے ساتھ معاملات 100فیصد حل ہو چکے تھے، بی این پی مینگل کے ساتھ بھی ایسے معاملات طے ہوئے جو تاریخ میں پہلے نہیں ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ مخالفین ہمیشہ مجھے ہی ٹارگٹ کرتے ہیں یہ میرے لئے فخر کی بات ہے،وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مجھے ہٹادیا گیا تو اپوزیشن کا فائدہ ہوگا۔