ترک صدر کی موجودگی میں بھارت کے خلاف بڑا فیصلہ ،عمران خان نے واضح‌پیغام دے دیا،جانئیے

اسلام آباد( نیوز ڈیسک ) قومی اسمبلی اجلاس میں پاکستانی نمک کو بھارتی پیکنگ میں عالمی مارکیٹ میں فروخت کا راستہ روکنے کا فیصلہ کر لیا گیا، حکومت پاکستان اپنے برانڈ کے ساتھ پاکستانی نمک دنیا میں فروخت کرے گی۔نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پارلیمانی سیکرٹری نے وقفہ سوالات کے دوران اراکین اسمبلی کو بتایا کہ بھارت

سے تجارت پر پابندی سے ہمیں کوئی نقصان نہیں ہو رہا، بھارت سے صرف ادویات منگوائی جاتی ہیں، باقی تمام تجارت بند ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت کو نمک برآمد کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں، پاکستان 80 ممالک کو معدنی نمک برآمد کرتا ہے، معدنی نمک کی ویلیو ایڈیشن کر کے برآمد کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں جس کے بعد کوئی دوسرا ملک ہمارا نمک ہمارے نام سے ایکسپورٹ نہیں کرسکے گا۔پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ نے اعتراف کیا کہ گزشتہ مالی سال کی نسبت ملکی برآمدات میں کمی ہوئی ہے۔دوسری جانب پالیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ کشمیر بھی ترکی کیلئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کیلئے ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ کشمیر بھی ترکی کیلئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کیلئے رکھتا ہے،ہمارے کشمیری بھائیوں کو حالیہ بھارتی اقدامت سے بہت نقصان ہوا ہے، ترکی مسئلہ کشمیر کو امن اور انصاف کے ذریعے حل کرنے کے فیصلے پر قائم ہے، پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں دباؤ کے باوجود پاکستان کو بھرپور تعاون اور حمایت کا یقین دلاتا ہوں۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان کی خطے میں دہشتگردی کو ختم کرنے کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ترکی کے سرمایہ کاروں کے بڑے گروپ کے ساتھ یہاں آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں سے محبت نہیں کریں گے تو اور کس سے کریں گے، انہوں نے اپنے پیٹ کاٹ کرکے ہماری مدد کی جسے کبھی نہیں بھول سکتے، ہم ترکی کیلئے سجدے میں دعائیں کرنے والوں کیسے فراموش کر سکتے ہیں، پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ قائم رہیں گے، ہمارا پاکستان کے ساتھ دل کا رشتہ ہے۔ترک صدر نے کہا کہ پاکستان کا دکھ ہمارا دکھ ہے اور اس کی کامیابی ہماری کامیابی ہے، ترک تحریک آزادی کی حمایت میں پاکستانی خواتین نے اپنے زیور بیچ دیے، ہماری دوستی مفاد پر نہیں عشق و محبت پر مبنی ہے، میں نے پاکستان میں کبھی بھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کیا، پاکستان میرے لیے دوسرے گھر کا درجہ رکھتا ہے، پاکستانی عوام کو عزت و احترام سے سلام پیش کرتا ہوں، ان کے خلوص اور مہمان نوازی پر شکرگزار ہوں، آج پاکستان اور ترکی کے تعلقات سب کیلئے قابل رشک ہیں۔ترک صدر سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم آبادیوں کو اسلامو فوبیہ جیسی حقارت آمیزمذہبی منافرت کا سامنا ہے، بھارت نے جس انداز سے مقبوضہ کشمیر کو اپنی نوآبادی میں تبدیل کیا ، مہذب دنیا میں اِس کی مثال نہیں ملتی، جس مردِ مجاہد نے بے باکی سے کشمیریوں کی ترجمانی کی وہ ترک صدر کی ذات گرامی ہے، دو ٹوک موقف پریہ ایوان، اہلِ کشمیر اوراہل پاکستان آپ کو اور آپ کی قوم کو سلام پیش کرتے ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردوان پارلیمنٹ پہنچے تو وزیراعظم عمران خان نے ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا۔ اس موقع پر پارلیمنٹ کو پاکستان اور ترکی کے جھنڈوں سے سجایا گیا جبکہ گیلریز کو گلدستوں سے مزین کیا گیا ہے۔وزیراعظم عمران خان، مسلح افواج کے سربراہان، غیر ملکی سفراء، حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی، سینیٹرز، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی۔رجب طیب اردوان کا یہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے چوتھا خطاب ہے۔ اس سے پہلے وہ بطور وزیراعظم دوبار اور بطورصدر ایک بار پاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کرچکے ہیں۔