اداروں کے خلاف بیان بازی، پاکستان کی معروف اور متنازعہ خاتون صحافی کو کمر توڑ جھٹکا دے دیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایف آئی اے نے معروف صحافی و سماجی کارکن گل بخاری کو طلب کر لیا۔تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کی انسداد دہشت گردی ونگ نے گل بخاری کو نوٹس بھیجا ہے اور اس سلسلے میں انٹرپول سے بھی رابطہ کر لیا گیا ہے۔اے آر وائے نیوز کے مطابق گل

بخاری کو یہ نوٹس منگل کے روز بھیجا گیا ہے۔ذرائع ایف آئی اے کے مطابق گل بخاری کی جائیداد بھی ضبط کی جا سکتی ہے۔عدالتی حکم کے بعد معاہدے کے تحت گل بخاری کو واپس لایا جائے گا۔عدم پیشی پر گل بخاری کے خلاف انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔گل بخاری کو ایف آئی اے کا نوٹس ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔اس حوالے سے معروف صحافی ثناءبچہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکن کو ٹارگٹ کرنے کا آج سے بہتر کوئی دن ہو ہی نہیں سکتا۔ خیال رہے کہ جون 2018ء میں نامعلوم افراد نے گل بخاری کو لاہور میں کینٹ ایریا سے اس وقت اغواء کرلیا تھا جب وہ ٹی وی پروگرام میں شرکت کیلئے دفتر کی گاڑی میں جارہی تھی۔انہیں چند گھنٹے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔ بعد میں انہوں نے ٹوئٹر پر گھر پہنچنے کی تصدیق کی تھی اور کسی پر بھی اپنے اغواء کا الزام نہیں لگایا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات ضروری ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج سے اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور افسوس کے ساتھ اس طرح کے واقعات کے بارے میں کچھ لوگ غلط بغیر تحقیق کے غلط تاثر پھیلاتے ہیں۔اس وقت مسلم لیگ ن کی رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے سماجی کارکن گل بخاری کے لاپتہ ہونے کی بازگشت پر کہا تھا کہ ان کا اغوا ء بہت پریشان کن خبر ہے۔