23

انقلابی منصوبہ : سورج کی روشنی اور درجہ حرارت کو کم کرنے کے منصوبے پر کام شروع ۔۔۔۔ مگر اس انوکھے منصوبے کا مقصد کیا ہے ؟ پوری دنیا کے کام کی خبر

کراچی (ویب ڈیسک) دنیا کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ زمین کے بالائی ماحول میں محفوظ کیمیائی مواد اسپرے کرکے سورج کی روشنی کو مدھم کرکے صورتحال کو اگرچہ بہتر نہیں بنایا جا سکتا لیکن اس سے درجہ حرارت کو مزید بڑھنے سے روکا ضرور جا سکتا ہے۔ نیچر کلائمیٹ چینج میگزین کی رپورٹ کے مطابق، محققین کا کہنا ہے کہ ’’سورج کو مدھم‘‘ کرنے کیلئے زمین کی فضا میں اسپرے کرنے سے جادوئی نتائج نہیں مل سکتے لیکن اس عمل سے زمین کا درجہ حرارت جس تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس رفتار کو آدھا کیا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ Solar Geo-Engineering سے نقصان کا اندیشہ ہے اور اس سے فضا زہریلی ہو سکتی ہے۔ تاہم اب بتایا گیا ہے کہ ایسے خدشات درست نہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر طبعیات ڈیوڈ کیتھ کا کہنا ہے کہ غیر یقینی صورتحال موجود ہے لیکن ماحولیاتی نمونے (کلائمیٹ ماڈل) کو دیکھتے ہوئے وثوق سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جیو انجینئرنگ کے نتیجے میں حیران کن فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ سولر جیو انجینئرنگ کا عمل ایک صدی پرانا ہے لیکن زمین کے ماحول کی تیزی سے بربادی کے تناظر میں اس خیال پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ سورج کو مدھم کرنے کے حوالے سے 100؍ سے زائد تحقیقی مقالہ جات لکھے جا چکے ہیں اور زمین کا درجہ حرارت کم کرنے کیلئے ایک زبردست اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین رواں سال محدود علاقے میں اسپرے کا تجربہ کرنے والے ہیں، جس کے بعد تحقیق کا محور اس سمت میں موڑا جائے گا کہ اسپرے کیے جانے والے کیمیکلز کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کمپیوٹر کے ذریعے حاصل کردہ اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر یہ طریقہ کار کارگر ثابت ہوا تو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے کے باوجود ماحولیاتی تباہ کاریوں، جن میں شدید بارشیں اور سمندری طوفان بھی شامل ہیں، کو کم کیا جا سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں