117

حکومت مستعفی ہونیوالے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن پر کیا کام کرنے کے لئے دباﺅ ڈال رہی تھی ؟ تہلکہ خیز دعویٰ کردیاگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)شازیب خانزادہ نے کہاہے کہ حکومت پر نیب پر دباﺅ کے الزامات لگتے رہے ہیں اور اب ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے مستعفی ہونے پر ایف آئی اے کے حوالے سے بھی ایسے الزامات سامنے آرہے ہیں۔جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“میں شاہ زیب خانزادہ کی طرف سے پیش کی گئی

رپورٹ کے مطابق حکومت نے بشیر میمن کو ریٹائرمنٹ سے 2ہفتے قبل عہدے سے استعفیٰ ہٹا دیا تھا جس پر بشیر میمن نے احتجاجاً استعفیٰ دیدیاہے، رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیاہے کہ بشیر میمن کے کام میں اس وقت مداخلت شروع کردی گئی تھی جب وہ جج ارشد ملک کے کیس کی تحقیقات کررہے تھے ، اس میں ایک خاص بات یہ تھی کہ جب یہ کیس چل رہا تھا تواس کی دن بدن رپورٹ لینا اورجب اس حوالے سے خبریں شائع ہوئی تھیں تو حکومت کی جانب سے اس پر ناراضی کا اظہار کیاگیا تھا اور کہا گیا تھا کہ جج ارشد ملک کی تفتیشی ٹیم کوتبدیل کیاجائے ۔رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی بشیر میمن کے ساتھ ون آن ون میٹنگ ہوئی تھی جس میں جج ارشد ملک کی کیس کے تفتیشی افسربھی شامل تھے ۔ بشیر میمن کوپیغامات بھی بھیجے جاتے تھے جن میں اپوزیشن کے مقدمات پر بات کی جاتی تھی اور اپ ڈیٹ دینے کاکہا جاتا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومتی ذرائع نے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن پر دباﺅ کی خبر کوغلط قرارد یاہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف جس افسر پر سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا الزام عائد کیا کرتی تھی اسی کو چیف سیکرٹری پنجاب تعینات کردیا ہے۔شاہزیب خانزادہ نے انصار عباسی کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں اعظم سلیمان پر تحریک انصاف نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے الزامات عائد کیے۔ وہ شہباز شریف کے پسندیدہ ترین بیوروکریٹ تھے جنہیں 5 سال تک ایک ہی جگہ تعینات رکھا گیا تھا۔اعظم سلیمان شہباز شریف کے دور میں کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے سیکرٹری کے عہدے پر کام کررہے تھے، شہباز شریف میجر اعظم کو اس قدر پسند کرتے تھے کہ گریڈ22 میں ترقی باوجود انہیں اے سی ایس ہوم پنجاب میں 5 سال کیلئے مقرر رکھا گیا، یہ کسی کیلئے سب سے طویل عرصہ ہے۔اعظم سلیمان کے شہباز شریف کے ساتھ تعلقات اتنے خوشگوار تھے کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے ان کے محکمے کا کوئی وزیر ہی مقرر نہیں کیا بلکہ براہ راست سیکریٹری اعظم سلیمان کے ساتھ رابطہ رکھتے تھے۔ اعظم سلیمان نے پنجاب اور لاہور میں بڑے پروجیکٹس پر عمل کے معاملے میں بہت زبردست کارکردگی دکھائی۔ اعظم سلیمان کسی بھی طرح کی بے وقوفی کو برداشت نہیں کرتے تھے اور شہباز شریف کے من پسند افسر تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں