136

نقیب اللہ محسود کے والد کا انتقال،آرمی چیف کا بیان بھی سامنے آگیا،مرحوم سے کونسا کیاگیا وعدہ نہ بھلانے کا عزم ظاہر کردیا؟ جانیے

راولپنڈی(ویب ڈیسک)پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نےجعلی پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے شمالی وزیرستان کے نوجوان نقیب اللہ محسود کے والد محمدخان محسود کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔پاک فوج کےشعبہ تعلقات عامہ’آئی ایس پی آر‘سےجاری بیان کےمطابق نقیب اللہ محسودکےوالدمحمدخان محسود کےاِنتقال پرآرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ

نے گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم محمد خان محسود کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے مرحوم سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائےگا۔ واضح رہے کہکراچی میں مبینہ طورپرجعلی پولیس مقابلے میں قتل ہونے والے نقیب اللہ محسود کےوالدمحمد خان محسود طویل عرصہ سے کینسرکے مرض میں مبتلا اور راولپنڈی کےکمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد آج خالقِ حقیقی سے جاملے،محمد خان محسودکی میت کو اُن کےآبائی علاقے وزیرستان منتقل کر دیا گیا ہے اور نماز جنازہ منگل کی صبح دس بجے ادا کی جائے گی۔محمد خان محسود اپنےبےگناہ بیٹے نقیب اللہ کےقتل کاانصاف مانگتے مانگتے دنیا سے رخصت ہوئے،ان کےانتقال پرسوشل میڈیا میں ملکی نظامِ انصاف کےحوالے سےایک نئی بحث شروع ہو گئی ہےاورسینئرصحافیوں سمیت عام شہری کھل کر نظام انصاف پر تنقید کر رہے ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف جس افسر پر سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا الزام عائد کیا کرتی تھی اسی کو چیف سیکرٹری پنجاب تعینات کردیا ہے۔شاہزیب خانزادہ نے انصار عباسی کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں اعظم سلیمان پر تحریک انصاف نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے الزامات عائد کیے۔ وہ شہباز شریف کے پسندیدہ ترین بیوروکریٹ تھے جنہیں 5 سال تک ایک ہی جگہ تعینات رکھا گیا تھا۔اعظم سلیمان شہباز شریف کے دور میں کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے سیکرٹری کے عہدے پر کام کررہے تھے، شہباز شریف میجر اعظم کو اس قدر پسند کرتے تھے کہ گریڈ22 میں ترقی باوجود انہیں اے سی ایس ہوم پنجاب میں 5 سال کیلئے مقرر رکھا گیا، یہ کسی کیلئے سب سے طویل عرصہ ہے۔اعظم سلیمان کے شہباز شریف کے ساتھ تعلقات اتنے خوشگوار تھے کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے ان کے محکمے کا کوئی وزیر ہی مقرر نہیں کیا بلکہ براہ راست سیکریٹری اعظم سلیمان کے ساتھ رابطہ رکھتے تھے۔ اعظم سلیمان نے پنجاب اور لاہور میں بڑے پروجیکٹس پر عمل کے معاملے میں بہت زبردست کارکردگی دکھائی۔ اعظم سلیمان کسی بھی طرح کی بے وقوفی کو برداشت نہیں کرتے تھے اور شہباز شریف کے من پسند افسر تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں