ایک سال میں پنجاب میں کئی افسران کی بطور آئی جی تقرری اور پھر تبادلہ ، آخر انتہائی قابل اور اچھے افسران عمران خان کے معیار پر پورا کیوں نہیں اترتے ۔۔۔۔۔ ؟ کالم نگار آصف عفان نے اصل وجہ بتا دی

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ بزدار کا کام اچھا ہے‘ وہ خاموشی سے کام کرتے ہیں اس لیے پتہ نہیں چلتا‘ تاہم ان کے کام کی تشہیر ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بیوروکریسی میں چند روز قبل ہونے والے وسیع پیمانے پر تبادلوں کے پیچھے تین ہفتوں کی

نامور کالم نگار آصف عفان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔ محنت اور ماہرین کی مشاورت کار فرما ہے۔ تبادلوں کی اس آندھی میں ایسے ویسے کیسے کیسے اور کیسے کیسے ایسے ویسے ہو چکے ہیں۔ گوجرانوالہ میں تعینات دو اعلیٰ ڈویژنل افسران اس آندھی سے تاحال محفوظ ہیں۔ دور کی کوڑی لانے والے ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ممکن ہے وہ اُس غیر معمولی کارکردگی کی بنا پر تبدیل ہونے سے بچ گئے ہوں جو صرف حکومت ہی جانتی ہے یا پھر تبادلوں کا طوفان لانے والے تھنک ٹینک کے بس کی بات ہی نہ تھی کہ وہ کمشنر اور آرپی او گوجرانوالہ کا تبادلہ کر سکتے۔ واقفانِ حال بھی بخوبی جانتے ہیں کہ گوجرانوالہ میں تعینات ان افسران کے تبدیل نہ ہونے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں‘ تاہم یہ اَمر انتہائی خوش آئند ہے کہ پنجاب کے اہم اضلاع میں تقرریوں اور تبادلوں پر ایک عرصہ اثرانداز رہنے والا پریشر گروپ گوجرانوالہ تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یعنی ہوم ٹاؤن تک… سمجھنے والے سمجھ گئے جو نہ سمجھے وہ اَناڑی ہے۔ ممکن ہے اگلے مرحلے میں گوجرانوالہ بھی اس اثر سے آزاد ہو جائے۔ ان تبادلوں میں کئی افسران کی تعیناتی پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان حالا ت میں اس سے بہتر فیصلہ ممکن ہی نہ تھا اور ”رائٹ مین فار رائٹ جاب‘‘ کے تصور کے عین مطابق محسوس ہوتا ہے‘ جبکہ بعض تبادلوں کے بارے میں بجا طو رپر کہا جاسکتا ہے کہ انصاف سرکار کے کئی چیمپئنز اپنا کوٹہ بچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں

اور حیران کن تعیناتیوں کی وجہ وہ کوٹہ ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے نئے آئی جی پنجاب ڈاکٹر شعیب دستگیر کو بہترین آئی جی قرار دیا ہے‘ جبکہ ان سے پہلے تعینات ہونے والے آئی جی صاحبان کے بارے میں بھی اسی قسم کے القاب استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ آئی جی موجودہ ہو یا سابقہ‘ سارے ہی پولیس سروس آف پاکستان کے اعلیٰ ترین اور تجربہ کار افسران میں شمار ہوتے ہیں۔ امن و امان کے قیام اور گورننس میں ناکامی کا سارا ملبہ کسی ایک پر ڈال کر جانے والے کو موردِ الزام ٹھہرانا اور آنے والے کو بہترین قرار دے کر بے تحاشا توقعات وابستہ کر لینا انصاف سرکار کا وتیرہ بن چکا ہے۔ انصاف سرکار بنیادی نقائص اور وجوہات کو مسلسل نظرانداز کر کے ہر آنے والے آئی جی سے توقع کرتی ہے کہ وہ جادو کی چھڑی گھمائے گا اور پنجاب پولیس میں انقلاب آجائے گا۔ جب تک پنجاب پولیس کی فیلڈ فورس کی استعدادِ کار اور معیار زندگی کو بہتر نہیں بنایا جائے گا اس وقت تک ہر ہفتے بھی آئی جی تبدیل کر لیا جائے تو حالات جوں کے توں رہیں گے۔ مسئلہ کسی ایک افسر میں نہیں اصل مسئلہ اس فرسودہ نظام کا ہے جس پر تحریک انصاف کے قائدین گھنٹوں تنقید کرتے نہ تھکتے تھے۔ انہیں یہ کون سمجھائے کہ تبدیلی تھانیدار بدلنے سے نہیں بلکہ تھانے کے حالات اور ماحول کو بدلنے سے آئے گی۔ بدلنا ہے تو تھانے کے حالات کو بدلو… رویے خود بخود بدل جائیں گے۔ جب تک پنجاب پولیس کی فیلڈ فورس اور اعلیٰ افسران کے درمیان سہولیات

اور مراعات میں توازن نہیں ہوگا‘ اس وقت تک نہ تھانہ کلچر بدلے گا اور نہ تھانیدار کا رویہ بدل سکے گا۔ ایس او پیز کے مطابق جس تھانیدار کو ایک سال میں 30مقدمات کی تفتیش کرنی چاہیے وہ تقریباً پانچ گنا زیادہ مقدمات کی تفتیش کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہے۔ ان حالات میں وہ کیا تفتیش کرے گا اور کیسا انصاف کرے گا؟ جبکہ چھترول اور ڈانگ سوٹے کے سوا کوئی دوسرے جدید تفتیشی ذرائع ناپید ہوں تو تفتیش بھی ڈنڈے پر ہی ہوگی اور انصاف بھی ”ڈنڈی‘‘ والا ہی ملے گا۔ ایک گاؤں میں سیلاب کا شدید خطرہ تھا… سرکار کی طرف سے منادی کروائی گئی کہ بڑے صاحب (اعلیٰ افسر) آرہے ہیں‘ گاؤں کے تمام لوگ اپنی ہر قسم کی مصروفیت ترک کر کے پنڈال میں اکٹھے ہو جائیں تاکہ متوقع سیلاب سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی مناسب لائحہ عمل ترتیب دیا جاسکے۔ خیر سارا گاؤں پنڈال میں اکٹھا ہو گیا… وقت مقررہ پر بڑے صاحب تشریف لائے اور گاؤں والوں سے مخاطب ہوئے کہ میں آپ لوگوں کو ”وارننگ‘‘‘ دینے آیا ہوں کہ ایک بے رحم سیلابی ریلا آپ کے گاؤں کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ باآسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ دریا کی لہریں خطرے کے نشان کو چھونے کے لیے کس طرح بے تاب ہیں۔ اگر بروقت آپ لوگوں نے گاؤں نہ چھوڑا تو بہت بڑی تباہی ہو سکتی ہے۔ تاہم کل صبح سورج نکلنے سے پہلے آپ سب کو گاؤں چھوڑنا ہوگا۔ آپ کی نقل مکانی کے لیے ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات کر دئیے گئے ہیں۔

گاؤں والے بڑے صاحب کی بات سنتے ہی بھڑک اُٹھے کہ آپ اچانک ہمیں بتانے آگئے ہیں کہ ہمیں گاؤں چھوڑنا ہوگا۔ ہم اپنا مال اسباب چھوڑ چھاڑ کر کیسے نقل مکانی کر سکتے ہیں۔ کوئی ایسا لائحہ عمل اختیار کریں کہ ہم گاؤں چھوڑنے سے پہلے اپنا مال اسباب اکٹھا کر لیں۔ گاؤں والوں کا جواب سن کر بڑے صاحب سوچ میں پڑ گئے اور کافی گہرا سانس لینے کے بعد بولے کہ آپ کم سے کم وقت میں اپنا قیمتی سامان اکٹھا کر لیں۔ میں آپ کے لیے زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتا ہوں کہ دریا میں سیلابی خطرے کی نشاندہی کے لیے لگائے گئے نشان کے اُوپر ایک نیا نشان لگوا دیتا ہوں آپ پرانے نشان کو نظر انداز کر کے نئے نشان پر نظر رکھیں اور نئے نشان تک پانی پہنچنے سے پہلے پہلے گاؤں چھوڑ دیں ‘یعنی گاؤں کے لوگوں کی جان و مال و محفوظ کرنے کے لیے نہ تو پانی کا رُخ موڑا نہ ہی کوئی حفاظتی بند باندھا… بس خطرے کا نشان تبدیل کیا اور بڑے صاحب گاؤں والوں کو بہت بڑا ریلیف دے کر چلتے بنے۔ بلی کو دیکھ کر کبوتر کا آنکھیں بند کر لینا یا سیلابی ریلے کی نشاندہی کرنے والے نشان کا اُوپر کردینا‘ بات ایک ہی ہے۔ بڑے صاحب خطرے کا نیا نشان لگا کر ”تام جھام‘‘ کے ساتھ واپس چلے گئے اور نیا نشان لگنے کے بعد گاؤں کے مکین بھی اُن کے شکر گزار اور ”واری واری‘‘ تھے کہ ان کی وجہ سے خطرہ ٹل گیا۔ گاؤں کے بے چارے لوگوں کو کیا

معلوم کہ سیلابی ریلے کسی نشان یا بڑے صاحب کو کب مانتے ہیں؟ ؎دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام /کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے پھر وہی ہوا جو ہوکر رہنا تھا… ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟ گاؤں کے عوام نیا نشان لگنے کے بعد مطمئن ہوکر سو گئے اور رات کے کسی پہر بے رحم سیلابی ریلا خوابِ خرگوش میں مست سارے گاؤں کو بہا لے گیا۔ بدقسمتی سے انصاف سرکار بھی ملک کو بڑے صاحب کی طرز پر ہی چلا رہی ہے۔ اپنا اپنا مقامِ طمانیت ہے اور خود فریبی پر آمادہ اور بضد کب کسی کے کہنے میں ہوتے ہیں؟ وہ تو زمینی حقائق اور عقل و دانش کی ضد ہوتے ہیں۔بڑے صاحب کے اس واقعہ کو انصاف سرکار کے طرزِ حکمرانی اور بیوروکریسی میں وسیع پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ سے ہرگز منسوب نہ کیا جائے۔ یہ واقعہ تو آوارہ خیالی کے تحت ناجانے کیوں یاد آگیا۔ سابقہ دور میں پولیس کی کالی وردی کو گہرے ہرے رنگ میں تبدیل کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اب سب ہرا ہی ہرا ہوگا‘ لیکن ہرا ہونے کی بجائے عوام کی قسمت مزید ہار گئی۔ وردی کی تبدیلی کے بینیفشری اپنی واردات کر کے چلتے بنے‘ اس سے نہ تو تھانے کے حالات بدلے اور نہ ہی کوئی فیض کے چشمے جاری ہو سکے۔ عوام کیلئے وہی ذلت‘ دھتکار اور پھٹکار جوں کی توں رہی۔ لاہور پولیس کی جانب سے سٹرٹیجک ڈویلپمنٹ پلان بنا کر بزدار سرکار کو بھجوایا جا چکا ہے۔ اگر اس کو عمل درآمد نصیب ہو جائے تو بجا طو رپر اُمید کی جاسکتی ہے کہ وزیراعظم کو ہر چند ماہ بعد یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ وہ پنجاب کے عوام کیلئے اس بار بہترین آئی جی لے کر آئے ہیں۔ نئے آئی جی پنجاب کیلئے ایک نادر موقع ہے کہ وہ پولیس ریفارمز کے عملی نفاذ کیلئے اپنا کردار ادا کر کے خود کو بہترین کے ساتھ ساتھ تاریخ ساز آئی جی بھی ثابت کر سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ اب انہیں کرنا ہے کہ وہ وزیراعظم کے بہترین آئی جی بن کر کام کرتے ہیں یا تاریخ ساز آئی جی۔