ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی ۔۔۔لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان

لاہور (ویب ڈیسک) ابھی عمران خان کی حکومت کو آئے 50روز بھی نہیں ہوئے تھے کہ انہوں نے یہ حکم لگانا شروع کر دیا تھا کہ وزیراعظم کا قبلہ ٹیڑھا جا رہا ہے۔ پھر جب 100 دن پورے ہوگئے اور ان کے بقول قبلہ، سیدھا نہ ہوا تو ان کو اپنی بزرجمہری کا یقین سا ہونے لگا۔

نامور دفاعی تجزیہ کار اور کالم نگار لیفٹینٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ اس احساسِ برتری(یا کمتری؟) کو اپنے تک ہی محدود رکھتے تو شائد ان کا بھلا ہو جاتا۔ لیکن وہ چونکہ الیکٹرانک میڈیا پر آتے ہیں ، ان کا ایک نام بن گیا ہے، لوگ ان کو سنتے اور پڑھتے ہیں اس لئے ان کو زعم ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہی حرفِ آخر ہے اور دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان تھنک ٹینکوں کی اکثریت میں پاکستان میں نئی تبدیلی کے بعد بھی کمی نہیں آئی۔ کچھ نیوز چینل اپنے ان وابستہ مفادات کو سنبھالا دے رہے ہیں جن کے ارمان نئی حکومت آتے ہی چکنا چور ہو گئے تھے۔ اب عمران خان اور پنجاب کی کابینہ پر ان کا فوکس ہے اور وہ طرح طرح سے ہاری ہوئی بازی کا جوازِ شکست پیش کرنے میں پیش پیش ہیں۔۔۔ شائد وہ یہ نہیں جانتے کہ اب پاکستان کے نقارخانے میں ان طوطیوں کو سننے والا کوئی نہیں۔ وزیراعظم اور ان کی کابینہ پر ان کی یورش کا سب سے بڑا سبب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ نئی حکومت کسی ’’بل ڈوزر‘‘ کی مدد سے برسراقتدار آئی ہے۔۔۔ یہ بل ڈوزر کون ہے؟۔۔۔

ظاہر ہے اس سے ان کا صاف اشارہ فوج کی طرف ہے۔ وہ سیدھی اور صاف بات نہیں کریں گے بلکہ بل ڈوزر کہہ کر معاملے کو زیرِ قالین رکھنے کی سعی لا حاصل میں مبتلا نظر آئیں گے۔۔۔ دوسرا بڑا اٹیک عمران خان پر یہ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سب سے بڑے صوبے کی باگ ڈور عثمان بزدار کو دے کر گویا ایک گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے۔۔۔ ان کے خیال میں بزدار کو کیا پتہ کہ حکمرانی کیا ہے؟ بزدار کا قبیلہ تو صحرا میں ’بکریاں چرانے‘ والا قبیلہ ہے۔ وہ ’’بزداری‘‘ سے ’’شہریاری‘‘ کی طرف کیسے نکل آئے ہیں اور اگر ان کو عمران خان نے دھکا دے ہی دیا ہے تو اول تو ان کو معلوم ہو رہا ہو گا کہ پنجاب کی گورننس ان سے نہیں سنبھل رہی لیکن اگر وہ کسی حیلے بہانے سے اب 6،7ماہ نکال چکے ہیں تو بہت جلد پاکستان کے عوام کو پتہ چل جائے گا کہ بزداری اور شہریاری میں کیا فرق ہے!۔۔۔ مجھے یہاں تاریخ کا وہ واقعہ یاد آ رہا ہے جب نادر شاہ افشار نے دلّی پر حملہ کیا تھا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور مغل شہنشاہ کو ’’حکم‘‘ دیا تھا کہ میرے بیٹے کو اپنی فرزندی میں قبول کرو۔۔۔ یہ حکم شہنشاہ، ابن شہنشاہ، ابن شہنشاہ کو منظور نہ تھا

لیکن شکست خوردہ شہنشاہ مجبور تھا اور کوئی راہِ عافیت تلاش کر رہا تھا کہ اس ذلت سے بچے کہ اس کی شہزادی ایک چرواہے کے بیٹے کے حبالہ ء عقد میں جا رہی تھی۔ شہنشاہ کے ایک تھنک ٹینک نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ نادر شاہ کو کہیں کہ ہماری روایت ہے کہ نکاح نامے پر دولہا کا حسب نسب بھی درج کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ جب شاہی نکاح خواں کو بلوایا گیا اور دولہا کے خاندانی تفاخر کے کھوج لگانے کی کوشش کی گئی تو نادر شاہ غصے میں آ گیا اور کہا : ’’میرے بیٹے کا نام تو یاور خان ہے لیکن اس کا حسب نسب لکھنا چاہتے ہو تو لکھو:’ یاور خان ابن نادر خان، ابن شمشیر، ابنِ شمشیر، ابنِ شمشیر۔۔۔ ابنِ شمشیر‘‘۔۔۔ یہ سن کر دربار پر سناٹا چھا گیا۔ تھنک ٹینک کے ماتھے پر ایک پسینہ آتا تھا اور ایک جاتا تھا۔۔۔ اب یہی حال ’’بزدار‘‘ اور پنجاب کی مس گورننس کا ہے۔ تھنک ٹینک بزدار کے حسب نسب کو کھنگالنے سے باز نہیں آتے اور چاہتے ہیں کہ ان کو بھی وہی جواب ملے جو نادر خان نے مغل شہنشاہ کو دیا تھا۔۔۔ او بھلے مانسو! عمران خان وزیراعظم ہے، عثمان بزدار ان کا نامزد کردہ وزیراعلیٰ ہے۔ وہ ایک بار نہیں تین بار ببانگِ دہل کہہ چکے ہیں کہ ان کی نظر میں بزدار سے بہتر کوئی دوسرا اس منصب کا اہل نظر نہیں آتا۔۔۔

لیکن تھنک ٹینک ہیں کہ پھر بھی گاہے ماہے بزدار کو ’بے کار‘ ثابت کرنے سے باز نہیں آتے!۔۔۔ صحافی حضرات کے قبیلے کا میں بے حد احترام کرتا ہوں لیکن ان کی باتیں سن کر اقبال یاد آتا ہے: ایسی ’’چنگاری‘‘ بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی ۔۔۔ نیوز چینلوں کے ان تھنک ٹینک حضرات کا وزیراعظم کے خلاف سب سے وزن دار ایک بیانیہ یہ بھی ہے کہ عمران خان نے اپنی الیکشن مہم میں جو وعدے کئے تھے ان کو نہ صرف یہ کہ وفا نہیں کیا بلکہ الٹی ان سے بے وفائی کی ہے۔ مثلاً: ۔۔۔(1) مہنگائی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اشیائے صرف کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔۔۔(2) ایک کروڑ نوکریاں دینے کا پروگرام بنایا تھا لیکن اس وقت PTI کے مختلف ’’آپریشنوں‘‘ کی وجہ سے لاکھوں برسرِ روزگار اشخاص، بے روزگار ہو چکے ہیں۔۔۔(3) بے گھر افراد کے لئے 50لاکھ گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ تھا لیکن تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں 5لاکھ خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔۔۔ (4)گیس اور بجلی سستی کرنے کی خوش خبری دی تھی لیکن ملک کے آدھے حصے میں گیس نہیں اور بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی جاری ہے۔۔۔(5) سستا انصاف کہاں ہے؟ کسانوں کی خوشحالی کدھر ہے؟ پینے کا صاف پانی کہاں ہے؟ صحت و صفائی کی بہتر صورتِ حال کہاں نظر آتی ہے؟ امن و امان کی مجموعی صورت کس طرف جا رہی ہے؟

یہ وہ سوال ہیں جو آج ہر چینل پر پوچھے جاتے ہیں۔ شام 6 بجے سے لے کر رات 12بجے تک یہی گردان ہر ٹاک شو پر دہرائی جاتی ہے۔ لیکن میں اگرچہ وزیراعظم اور ان کی پارٹی کا دفاع کنندہ نہیں ہوں لیکن کچھ سوال میرے ذہن میں بھی آتے ہیں جو قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہیں: 1۔کیا عمران خان نے الیکشن مہم میں یہ وعدہ کیا تھا کہ میں آتے ہی پہلے 100دنوں یا ایک سال میں ملک کے وہ سارے دلدّر دور کردوں گا جو اسے ایک زمانے سے لاحق ہیں؟ 2۔کیا یہ اعلان کیا تھا کہ پہلے 6ماہ میں نوکریوں کی برسات ہو جائے گی اور تعمیر شدہ گھروں کی قطاریں لگ جائیں گی؟ 3۔کیا مہنگائی ختم کرنے کے لئے کوئی ڈیڈلائن دی تھی؟ کیا امن و امان کی بحالی کا کوئی ٹائم ٹیبل دیا تھا؟ جہاں تک مجھے یاد ہے اور آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ انہوں نے کوئی ایسا نظام الاوقات نہیں دیا تھا جس کے مطابق یہ سارے فلاحی اور رفاہی منصوبہ جات مکمل ہو جانے تھے ۔۔۔ ہاں میں اس بات پر آپ کے ساتھ متفق ہوں کہ خان صاحب کی شیڈو کابینہ نے دورانِ الیکشن اور الیکشنوں سے پہلے جو کام کرنے چاہئیں تھے، وہ ہرگز نہیں کئے۔

ملک کی اقتصادی بدحالی کا علم کسے نہیں تھا لیکن انہوں نے IMFکو ٹھکرانے کے لئے کیا نظام الاوقات وضع کیا ؟ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ لوگ اپنا ہوم ورک مکمل کرنے میں دردِ سر جھیلتے،انہماک و استغراق کا مظاہرہ کرتے اور جونہی الیکشنوں کے نتائج آتے اور ان کی پارٹی کو اقتدار ملتا وہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنا کام شروع کر دیتے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یہ وزیراعظم کی ٹیم کی نااہلی شمار ہوگا۔ وزیراعظم کو سیاسی جدوجہد کرتے 22سال ہو گئے۔ اس طویل عرصے میں ان کو معلوم ہو جانا چاہیے تھا کہ پاکستان کو کس کس طرح کے مسائل کا سامنا ہے اور ان سے کیسے نمٹا جانا چاہیے۔صرف یہ دعوے کرتے جانا کہ ہم اقتدار ملتے ہی ہر طرف خوشحالی کی گنگا بہا دیں گے کافی نہیں تھا۔ سچ پوچھیں تو آج بھی ان کی ٹیم رفتار نہیں ’’پکڑ‘‘ رہی۔ یہ آہستہ خرامی بلکہ سست گامی پاکستان کے لئے بھی اور تحریک انصاف کی سیاست کے لئے بھی خطرناک حد تک زہرناک ہے۔اس کو ختم ہونا چاہیے۔۔۔۔شاعری کی زبان میں کہا جاتا ہے کہ اگر دورانِ سفر آپ کے اونٹوں کا قافلہ تھک جائے اور اس کی رفتار آہستہ ہو جائے تو حدی کو تیز تر پڑھنا چاہیے اور اگر محفل میں ذوقِ نغمہ کم محسوس ہو تو آواز کی لے کو تلخ تر کر دینا چاہیے۔ وزیراعظم کو آج کسی تھنک ٹینک کی نصیحت یا مشورے کی ضرورت ہے ۔(ش س م)

Leave a Reply

Your email address will not be published.